نام سربراہ اجلاس سے صدر مرسی کے خطاب میں ردوبدل

نام سربراہ اجلاس سے صدر مرسی کے خطاب میں ردوبدل


مصری صدر کی تقریر مسخ کرنے پر ایرانی میڈیا کو تنقید کا سامنا


جمعہ 13 شوال 1433هـ - 31 اگست 2012م
مصری صدر محمد مرسی غیروابستہ تحریک کے سربراہ اجلاس کے موقع پر ایرانی ہم منصب محمود احمدی نژاد سے ملاقات کررہے ہیں۔


تہران۔مسعود الزاہد،العربیہ ڈاٹ نیٹ
ایران کے سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن کو مصر کے صدر محمد مرسی کے غیر وابستہ تحریک کے سربراہ اجلاس میں خطاب کا سیاق وسباق سے ہٹ کر اور مسخ کرکے ترجمہ نشر کرنے پر تنقید کا سامنا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ایران کے سرکاری میڈیا سے تعلق رکھنے والے مترجم نے صدر محمدمرسی کی تقریرکا درست ترجمہ نہیں کیا تھا اور اس نے ان کی تقریر کا ہوبہو ترجمہ کرنے کے بجائے اس کو ایران کے سرکاری پراپیگنڈا کے مطابق ڈھالنے کے لیے اصل الفاظ میں ردوبدل کردیا گیا تھا۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نیٹ ورک نے صدر محمد مرسی کے تقریر کے اس حصے کا ترجمہ نشر نہیں کیا تھا جس میں انھوں نے شامی صدر بشارالاسد کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

ایران میں قدامت پسند میڈیا کی مانیٹرنگ کرنے والی ایک ویب سائٹ دیگربان کا کہنا ہے کہ سرکاری ٹیلی ویژن کے مترجم نے بے مثال کارنامہ انجام دیتے ہوئے صدرمرسی کی تقریر کو مسخ کرنے کی کوشش کی اور جب وہ شامی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے تو مترجم صاحب نے تقریر کے اس حصے کا ترجمہ ہی نہیں کیا۔

ایرانی حکومت کے قریب سمجھی جانے والی بعض ویب سائٹس جہاں نیوز اور عصری رین وغیرہ نے بھی مصری صدر کی تقریر کے وہ حصے شائع کیے ہیں، جو ایرانی موقف سے لگا کھاتے تھے اور شامی صدر بشارالاسد پر تنقید والے حصوں کو شائع نہیں کیا۔

جہاں نیوز نے دو قدم آگے جا کر صدر محمد مرسی کو ایک ''ظہورپذیر صدر''قرار دیا ہے اور بشارالاسد سے متعلق ان کی گفتگو کو انتہاپسندانہ اور غیر عقلی قرار دیا ہے۔

جب صدر محمد مرسی اپنی تقریر میں عرب بہاریہ ممالک کا ذکر کررہے تھے اور انھوں نے لیبیا،تیونس ،مصر ،شام اور یمن کا حوالہ دیا تو ایرانی مترجم نے اس جملے میں شام کی جگہ بحرین کو شامل کردیا۔

ایرانی میڈیا سے وابستہ ایک صحافی امیر مقدم نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے فارسی ترجمے میں تین مرتبہ ''بحرین'' کا لفظ سنا حالانکہ مصری صدر کی تقریر میں اس کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ 

امیر مقدم کا کہنا تھا کہ فارسی مترجم صدر محمد مرسی کی تقریر کا ترجمہ کرتے ہوئے کنفیوژ نظر آرہا تھا اور اس نے جان بوجھ کر بعض الفاظ اپنی طرف سے تقریر میں شامل کردیے۔مثال کے طور پر اس نے عرب بہاریہ کا ترجمہ بھی ''الصحوۃ الاسلامیہ (اسلامی بیداری) کردیا۔ 

ان کے بہ قول ''اگر مترجم کو اوپر سے ایسے کوئی احکامات نہ ملے ہوتے تو ایسا کبھی نہ ہوتا۔یہ تو واضح طور پر ایک صدر کی تقریر کو براہ راست مسخ کر کے نشر کیا گیا ہے اور اس کو پوری دنیا نے سنا اور دیکھا ہے''۔امیر مقدم کا کہنا تھا کہ صدر مرسی کی تقریر کو اس لیے بھی مسخ کیا گیا تھا کہ ایرانی رجیم اپنے عوام کو کچھ اور کہانی سناتا رہا ہے جبکہ وہ شام سے متعلق کچھ اور حقائق بیان کررہے تھے۔ 

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے مبینہ طور پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون اور جنرل اسمبلی کے صدر ناصر عبدالعزیز کے شام سے متعلق ریمارکس کو بھی کاٹ چھانٹ کر اور تبدیل کرکے نشر کیا ہے۔ 

واضح رہے کہ مصر کے صدر محمد مرسی نے اپنی تقریر میں بہادر شامی عوام کی جبر وتشدد کے خلاف جدوجہد اور ان کے انقلاب کو سراہا تھا اور شامی صدر بشارالاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے نام سربراہ اجلاس سے اپنے افتتاحی خطاب میں شامی بحران کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔ 

مصری صدر نے کہا کہ ''شامی صدر بشارالاسد حکمرانی کا قانونی جواز کھوچکے ہیں اور عالمی برادری کو شام میں جاری خونریزی کو رکوانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں''۔انھوں نے کہا کہ ''شامی عوام کی جدوجہد کے ساتھ ہمارا اظہار یک جہتی ایک اخلاقی فرض ہے اور یہ ایک سیاسی اور تزویراتی ضرورت بھی ہے''۔ 

صدر محمد مرسی جب یہ تقریر کررہے تھے اور شامی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنارہے تھے تو اس دوران غیر وابستہ تحریک کی سربراہ کانفرنس میں شریک شامی وفد اٹھ کر چلا گیا تھا