مصر: وزیر دفاع نے 70 آرمی جرنیل ریٹائر کر دیے

مسلح افواج کی سپریم کونسل کے 6 ارکان برطرف

مصر: وزیر دفاع نے 70 آرمی جرنیل ریٹائر کر دیے

اتوار 15 شوال 1433هـ - 02 ستمبر 2012م
مصر کے وزیر دفاع عبدالفتاح السيسی
مصر کے وزیر دفاع عبدالفتاح السيسی
 
قاہرہ ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ
مصر کے نئے وزیر دفاع عبدالفتاح السيسی نے برّی فوج کے ستر جرنیلوں کو ریٹائر کر دیا ہے اور مسلح افواج کی سپریم کونسل کے چھے ارکان کو بھی ہٹا دیا ہے۔

مصری روزنامے الشروق نے اطلاع دی ہے کہ وزیر دفاع اور دفاعی پیداوار کرنل جنرل عبدالفتاح السيسی نے مسلح افواج کی سپریم کونسل (سکاف) کی تشکیل نو سے قبل ان فوجی جرنیلوں کو ریٹائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اخبار کی اطلاع کے مطابق وزیر دفاع نے سکاف کے چھے ارکان ممدوح عبدالحق، اسماعیل اتمان، محسن الفنجاری، سامی دیاب، عادل عمارہ اور مختار المولیٰ کو برطرف کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جنرل عبدالفتاح السيسی نے ابھی تک اپنی جگہ ملٹری انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کے عہدے پر کسی کا تقرر نہیں کیا۔ وہ وزیر دفاع بننے سے قبل اس عہدے پر فائز تھے۔

ذرائع کے مطابق سابق وزیر دفاع اور سکاف کے سابق سربراہ فیلڈ مارشل محمد حسین طنطاوی نے گذشتہ سال فروری میں سابق صدر حسنی مبارک کا تختہ الٹے جانے کے بعد متعدد سابق سنئیر فوجی افسروں کو دوبارہ کام پر بلا لیا تھا اور انھیں فوج کے مختلف اداروں میں مناصب سونپ دیے تھے۔

واضح رہے کہ مصر کی مسلح افواج کے قانون کے مطابق وزیر دفاع کو ریٹائر اعلیٰ فوجی عہدے داروں کی ان کے تجربے اور مہارت کے پیش نظر دوبارہ خدمات حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔

مصر کے صدر محمد مرسی نے دو ہفتے قبل عبدالفتاح السیسی کو ملک کا نیا وزیر دفاع اور سابق جج محمود احمد مکی کو نائب صدر مقرر کیا تھا اور بحریہ، فضائی دفاع اور فضائیہ کے کمانڈروں کی ریٹائرمنٹ کا حکم دیا تھا۔ صدر نے مصر کی مسلح افواج کی سپریم کونسل کے سربراہ فیلڈ مارشل محمد حسین طنطاوی اور آرمی چیف جنرل سامی عنان کو ریٹائر کر دیا تھا اور سامی عنان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل صدقی سید احمد کو چیف آف آرمی اسٹاف اور جنرل محمدالعصر کو نائب وزیر دفاع مقرر کیا تھا۔

انھوں نے صدارتی انتخابات کے انعقاد سے چندے قبل مسلح افواج کی سپریم کونسل کی جانب سے جاری کردہ عبوری آئینی اعلامیے کو بھی منسوخ کر دیا تھا۔ اس آئینی اعلامیے کے تحت عبوری دور میں ملک کا نظم ونسق چلایا جا رہا تھا اور فوجی کونسل کو صدر کے اہم اختیارات بھی سونپ دیے گئے تھے۔